کانگریس کو مسلمانوں کے ووٹ چاہئے مگر اس کے نمائندے ساتھ کھڑے ہونے تیار نہیں؟
بنگلورو،11؍اکتوبر(ایس او نیوز؍رضوان اللہ خان) بنگلورو شہر کے کے جی ہلی اور ڈی جے ہلی تشدد کو اتوار کے روز دو ماہ کا عرصہ پورا ہو چکا ہے۔ اس علاقے میں ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد پولیس نے جس طرح کی کارروائی کی اور یہاں سے سینکڑوں نوجوانوں کو گرفتار کیا اور ان میں سے اکثر کو گرفتار کر کے ایک طرف خطرناک یو اے پی اے قانون کے تحت مقدمات میں پھنسا دیا تو دوسری طرف پولیس کی اس جارحانہ کارروائی نے علاقہ کے لوگوں کو دہشت زدہ کردیا۔
دو ماہ گزرجانے کے بعد بھی یہاں کے لوگ اب تک اپنے آپ کو محفوظ محسوس نہیں کر رہے ہیں اور اس خوف میں ہیں کہ نہ جانے کب پولیس یا اب اس معاملہ کی جانچ میں لگی این آئی اے کے افسرو ں کی ٹیم ان کے گھر پر دھاوا بول دے گی او ر نوجوانوں کو بے وجہ پکڑا جائے گا۔
تشدد دو پولیس تھانوں دیور جیون ہلی اور کے جی ہلی علاقوں میں ہوا۔ ڈی جے ہلی علاقہ پلی کیشی نگر اسمبلی حلقہ کا حصہ ہے جبکہ کے جی ہلی سروگنا نگر اسمبلی حلقہ میں آتاہے۔ پلی کیشی نگر حلقہ کے رکن اسمبلی آر اکھنڈا سرینواس مورتی کے بھانجے نوین کی طرف سے شان رسالت ؐ میں گستاخی کے نتیجے میں اس علاقہ میں تشدد پھوٹ پڑا اور اس کا فائدہ اٹھا کر شر پسندو ں نے اکھنڈا سرینو اس مورتی کا گھر جلا دیا۔ تشدد کے دو ماہ بعد اس علاقہ کے مقامی لوگوں سے بات کی گئی تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ دونوں علاقوں کے منتخب نمائندوں نے اس تشدد کے بعد مقامی لوگوں کو یکسر نظر انداز کر رکھا ہے۔
پلی کیشی نگر کی بات کی جائے تو یہ کہا جاتا ہے کہ سرینواس مورتی خود اپنا گھر جل جانے کے سبب پریشان ہیں۔ اس لئے انہوں نے علاقے میں بڑی تعداد میں علاقہ سے ان نوجوانوں کی گرفتاری پر توجہ نہیں دی جن کے بارے میں گھر والوں کا کہنا ہے کہ وہ بے قصور ہیں اور اس کے ساتھ ہی ان نوجوانوں کے بے قصور ہونے کے واضح ثبوت موجود ہونے کے باوجود پولیس پورے انتقامی موقف میں ہے۔ لیکن منتخب حلقہ کا منتخب نمائندہ اپنی پریشانی کے بہانے سے خاموش ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے واقعی تشدد برپا کیا ہے پولیس اگر ان کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف کارروائی کرتی تو کسی کوکوئی پریشانی نہیں تھی۔ لیکن یہ دیکھا جا رہا ہے کہ پولیس تھانوں پر حملوں سے جن نوجوانوں کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں اور وہ نوجوان کو علاقہ میں تشدد کے دوران موجود بھی نہ تھے انہیں بھی اٹھا کر ان تمام پر یو اے پی اے مقدمہ میں پھنسا دیا گیا ہے۔ اگر منتخب نمائندہ مقامی لوگوں کو بروقت انصاف دلانے کے لئے کھڑا نہ ہو تو ایسے نمائندہ کی ضرورت کیا ہے اور اس کا ساتھ بھی کوئی کیوں کر دے۔یہی صورتحال کے جی ہلی علاقہ کی بھی ہے۔ اس علاقے سے 123نوجوانوں کو اب تک گرفتار کر کے انہیں جیل بھیجا جا چکا ہے۔ اب بھی علاقہ میں لوگ خوفزدہ ہیں۔ لیکن اس علاقے کے رکن اسمبلی کے جے جارج، جو سابق وزیر داخلہ بھی ہیں ان کے متعلق بھی مقامی مسلمانوں میں کافی ناراضگی پائی جا رہی ہے اور یہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جب جارج کو مسلمانوں کے وووٹوں کی ضرورت تھی تو اپنے ساتھ جھنڈا پکڑنے والوں اور نعرے لگانے والوں کی فوج کے ساتھ علاقے میں ہر دن موجود رہتے اب جبکہ علاقے میں بڑی تعداد میں بے قصور نوجوانوں کو پولیس کی طرف سے بے رحمی سے نشانہ بنایا گیا ہے اور انہیں فرضی مقدمہ میں پھنسا یا گیا ہے یہاں کے منتخب نمائندے کو اس صورتحال سے کچھ سروکار نہیں۔
ایک مقامی کانگریس مسلم رہنما نے جارج کی بے توجہی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح نوجوانوں کو نشانہ بنانے کے معاملہ میں کانگریس کے رہنماؤں نے بے رخی اپنائی ہے اسے دیکھنے کے بعد ان سے مایوسی ہوئی ہے۔ کے جی ہلی، ڈی جے ہلی پر اگر کوئی بات کر رہا ہے تو وہ صرف مسلم قائدین ہیں۔ مقامی اراکین اسمبلی دونوں خاموش ہیں۔یہاں تک کہ اسمبلی میں بھی اس مسئلہ پر صرف اپوزیشن لیڈر سدارامیا، ضمیر احمد خان اور سومیا ریڈی کے علاوہ کسی کانگریس ممبر نے زبان نہیں کھولی۔ کونسل میں نصیر احمد کے علاوہ سب کے سب خاموش رہے۔ کیا مقامی اراکین اسمبلی ہونے کے ناطے جارج اور اکھنڈا سرینواس مورتی کی یہ ذمہ داری نہیں تھی کہ اس پر اپنی زبان کھولتے۔
ایک کانگریس رہنما نے بتایا کہ حال ہی میں کانگریس کارکنوں کی میٹنگ میں جارج سے جب اس سلسلہ میں بات کی گئی تو انہوں نے بے قصور نوجوانوں کی رہائی کے سلسلہ میں لوگوں کی پریشانی کو دور کرنے کے لئے تسلی دینے کی بجائے اپنے کارکنوں کو یہ ہدایت دی کہ کچھ راشن کے پیکٹ علاقے کے لوگوں تک پہنچا دئیے جائیں۔ جارج کی اس حرکت پر میٹنگ کے دوران ہی اس مسلم کارکن نے برہمی ظاہر کی اور کہا کہ راشن کے پیکٹوں کی کوئی ضرورت نہیں۔بتایا جاتا ہے کہ علاقے کے لوگوں میں دونوں منتخب نمائندوں کی طرف سے مسلمانوں کو اس مرحلے میں جس طرح نظر انداز کیا گیا ہے اس پر سخت برہمی پائی جا رہی ہے۔